Hello friends es post men ham apke Sath share karengy kuchh best Urdu font sexy stories Jo ke apko parh kar Maza aayega ye Sachi aur real Urdu hot stories Hain Jo logon NY share ki hain kuchh Meri personal Hain agr ap bhi apni sexy Kahani share Karna chahty hain to apko contact us page par apko email mil jayegi ap wahan apni Urdu hot stories share kar sakty Hain. To shuru karty hai pehli story se Jo neechy di jaa Rahi hai
Urdu sexy story NO.2 ( Noreen ki chudai )
اس کے لمبے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کے لیے ہاتھ ہلایا، تو نورین نے ہاتھ نہ چھوڑا، چہرہ اٹھا کے مجھے دیکھنے لگی۔ میرے چہرے پر بدلتے رنگ دیکھ کے نورین نے مجھے سینے پر دباؤ ڈال کے نیچے بچھے اونی گدے پر لٹادیا اور خود میرے لن پر آگئی اپنے ایک ہاتھ سے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور دو میرے ہاتھ سے لن پکڑ کے اپنی چوت میں ڈال لیا، پھر میرے سینے پر اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھ تھوڑاد باکے رکھ دیے۔ اور کچھ آگے پیچھے کچھ اوپر نیچے ہونے لگی۔ توں واقعی شہزادہ ہے مست ہے مست ، نورین مستی کی لہروں میں ڈوبتے ہوئے بولی۔ کیا چیز ہے توں ۔ صحیح تڑپتی ہیں تیرے لیے عور تیں۔ پتہ نہیں کیا جادو ہے تجھ میں ؟ نورین آپے سے باہر ہو رہی تھی۔ جو کرنا تھا نورین ہی نے کرنا تھا اور وہ کرتی رہی۔ بھی تیز بھی آہستہ بھی بیٹھ کے بھی میرے اوپر لیٹ کے ، نورین کو سارے ڈھنگ آتے تھے۔ اس کے جسم کو دیکھ کے لگتا تھا جوانی میں بہت خاص ہو گی۔
اب بھی وہ کم نہیں تھی۔ اس کی خوبصورتی میں اس کے اسمارٹ جسم کا کافی حصہ تھا۔ مجھے اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی یہ ٹانگوں کی کیفیت بھی یہی تھی پھر یہ کیفیت لن سے نکلنے لگی۔ ارے ٹھہر تو جا میں بھی آنے والی تھی۔ میں خاموش لیٹا رہا۔ چلو کوئی بات نہیں تمہارا چوپا بھی تو زیادہ لگ گیا تھا۔ اب پھر مزا لیتے ہیں، نورین نے کپڑے سے میرا لن صاف کیا اور جھک کر پھر چو پالگانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے میرے ہاتھ چھوڑ دیے۔ میرے جسم میں سر سرایت سی پھر ہونے لگی، میرا جسم اک نئی تپش سے جلنے لگا، لن پھر کھڑا ہو گیا۔ نورین جلدی سے پھر اپنے اندر لے کے اوپر نیچے ہونے لگی۔ ویسے بھی میرا اٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، دیکھا شہزادے اس میں کتنا مزہ ہے۔ نورین پھر بے قابو ہونے لگی۔ شہزادے سچی بات تو یہ ہے کہ اتنا مزہ بھی پوری زندگی میں نہیں آیا، ہانپتی آواز میں اسے بولنے میں بھی مزہ آرہا تھا۔
جس کو بھی چودے گا وہ تیری دیوانی بن جائے گی، پر نہیں توں صرف میرا ہے صرف میرا شہزادہ۔ نورین رک گئی، شہزاد د د د د د دے۔ اس کا جسم جھٹکے لینے لگا۔ نورین کچھ دیر میری طرف دیکھتی رہی پھر میرے ساتھ لیٹ گئی۔ مجھے کچھ بے چینی ہونے لگی ، جیسے پیاس لگی ہو اور پانی پیتے پیتے درمیان سے کوئی گلاس چھین لے ، نورین غور سے میری طرف دیکھ رہی تھی، ابھی تمہارا پانی نہیں نکالا تمہیں بے چینی ہو رہی ہو گی، میں تو تھک گئی ہوں، ایسا کر میرے ممے چوس تو میں تیار ہو جاؤں گی اور پھر میں تمہارا پانی نکال دوں گی ، نورین نے میرے ہاتھ اپنے مجھے پر رکھ دیا۔ مجھے وہ اچھے لگے میں انہیں آہستہ آہستہ دبانے لگا، ایسے نہیں، انہیں اس طرح سہلاؤ ، نورین نے جیسے بتایا میں ویسے کرنے لگا، تھوڑا اچھا بھی لے لے نا ان کا، نورین نے فرمائش کی، مجھے مجھے اچھے لگ رہے تھے میں انہیں چومنے لگا، ایسے نہیں شہزادے میرے اوپر لیٹ کے چوس ان کو ۔
نورین نے مجھے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کھنچا تو میں بے اختیار اس کے اوپر لیٹ گیا، ایک نپل منہ میں لیا تو اچھا لگا میں اسے چوسنے لگا ، نورین نے میرا دوسرا ہاتھ اپنے دوسرے ممے پر رکھ دیا، اسے بھی دباتارہ، اپنی ہاتھ اور انگلیاں سے ، ایسے ، ہاں ایسے ، واہ شہزادے تم تو کمال ہو ، بہت مزا آ رہا ہے ، تمہیں اب بھی بے چینی تو ہو گی بلکہ بڑھ گئی ہو گی ، ایسے کر ساتھ ساتھ اپنا لوڑا میری چوت کے اوپر رگڑ، ساتھ ہی میری کمر کو دونوں طرف سے پکڑ کر مجھے اپنی چوت پر لانے لگی، مجھے اس سے سکون بھی آیا اور تیز کرنے کو بھی دل کرنے لگا، چوت کے اوپر رگڑ، نورین نے بیچ میں ہاتھ گھسا کے لن صحیح رکھا۔ اچھا لگ رہا ہے ناشہزادے، اندر ڈال کے کرے گا تو اصلی مزا آئے گا تمہیں، چوت نرم ہوتی ہے نہ اس لیے۔ لا میں ڈال دیتی ہوں، لے موری کے اوپر رکھ دیا ہے اب توں تھوڑا دھکا لگا، میں نے آہستہ آہستہ اندر کیا تو چوت نے میرے لن کو گرفت میں لے لیا۔
آگے پیچھے ہو جیسے میں کرتی رہی ہوں ، ہاں یوں ، شاباش شہزادے اب تم چودائی کرنا سیکھ گئے ہو، چودو مجھے ، تیز کرنا، کیا لڑکیوں کی طرح لگا ہوا ہے ، ہاں ایسے ، آو۔ اور ، تیز ، اور تیز ، نورین کی آواز میں مجھے ایسے ہی بھگانے لگی جیسے چانک گھوڑے کو بھگاتا ہے ، میں بھی تیز تیز کرتا رہا، کرتارہا اور پھر پہلے کی طرح جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی، مجھے رکنا پڑا میں نے اُسے جپھا ڈال لیا، نورین نے میری کمر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کے اپنے اوپر کیا اس طرح میں آگے پیچھے ہونے لگا، لن اندر ہی تھا اور کچھ جان باقی تھی، وہ کرتی رہی۔ ان میں جان ختم ہو گئی پھر بھی کرتی رہی اور پھر اس نے بھی مجھے جھا ڈال لیا اور اپنی ٹانگوں سے مجھے کس لیا، شہزادے مجھے تو لگتا ہے جیسے میں مر ہی جاؤں گی آج ، نورین نے بھٹی گھٹی آواز میں کہا۔ کچھ دیر ہم ایسے ہی لیٹے رہے، پھر ایکدوسرے کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے، تھوڑی دیر ٹھہر جا، پھر کھیلیں گے ، نورین کا جی نہیں بھر اتھا۔۔
نورین میرے جسم پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔ میں بہت تھک گیا ہوں، میری ٹانگوں میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کمزوری تو بہت ہی ہے ، نورین اٹھی اور نیم گرم دودھ لے آئی ، لے پی لے نورین نے مجھے اٹھا نے گلاس میرے منہ سے لگا دیا، اونہہ یہ تو گرم ہے مجھے ٹھنڈا چاہیے ، ایسی حالت میں ٹھنڈا نہیں پیتے شہزادے، اسے پی لے تمہاری حالت بہتر ہو جائے گی ، دودھ پینے کے بعد میں پھر لیٹنے لگا، لیکن نورین نے مجھے اٹھا کے چار پائی پر بٹھایا اور اونی گدا ساتھ نیچے سے چٹائی لپیٹ کے رکھ دی، مجیدے کو پتہ ہے ہم یہ کیوں بچھاتے ہیں ؟ نورین بڑ بڑائی ، رخسانہ انہی کے کمرے میں سوتی تھی، شاید اسی لیے نیچے یہ طریقہ بنایا ہوا تھا، پھر نورین مجھے اپنے ساتھ لگا کے دادی کے کمرے میں لے آئی، بہت درد ہے میری ٹانگوں میں۔ نورین مجھے لٹا کے میری ٹانگوں کو دبانے لگی کافی دیر دباتی رہی، پتہ نہیں کب میں سو گیا۔
