Hello friends es post men ham apke Sath share karengy kuchh best Urdu font sexy stories Jo ke apko parh kar Maza aayega ye Sachi aur real Urdu hot stories Hain Jo logon NY share ki hain kuchh Meri personal Hain agr ap bhi apni sexy Kahani share Karna chahty hain to apko contact us page par apko email mil jayegi ap wahan apni Urdu hot stories share kar sakty Hain. To shuru karty hai pehli story se Jo neechy di jaa Rahi hai
Urdu font sexy story NO.1 ( Shabana ki chudai )
میں اپنا انڈر ویئر اتار نے لگا تو شبانہ نے اپنی جینز اتار کر برا بھی کھول دی۔ شبانہ چو ہیں سال کی مست جوانی تھی خوبصورت گولائی نما چہرہ۔ گوری رنگت، تنے ہوئے تھے۔ اسمارٹ جسم جواب انگار ابنا ہوا تھا۔ شبانہ کی سسکاریاں تیز ہونے لگی تھی اسے گرم کرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ تو بڑی مشکل سے خود کو سنبھالتی آئی تھی۔ تابش ڈال دو اندر شبانہ نے شدت سے میرے گلے لگتے ہوئے کہا اس کی چوت میرے لن کو چومنے لگی۔ ہم فلیٹ کے دروازے کے ساتھ ہی ابھی تک کھڑے تھے میں نے اسے دیوار کے ساتھ لگا کے اس کی دائیں ٹانگ تھوڑی سی اٹھائی اور لن اس کی چوت میں ڈال دیا۔ شبانہ نے اپنی بانہوں کا ہار میرے گلے میں ڈالا ہوا تھا۔ میں شبانہ کو چودنے لگا۔ تیز چود و تابش تیز ۔ شبانہ چیخنی۔ ایسی چیخوں کے لیے ہی تو میرا افلیٹ ساؤنڈ پروف تھا۔ میرے دھکے کوئی عام دھکے نہیں تھے۔ میں پوری شدت سے شبانہ کی چدائی کرنے لگا۔
میرے ہر دھکے پر شبانہ مزے کی شدت سے چیچنے لگی۔ میرے دھکے اور اس کی چیخیں جیسے موسیقی کی ردھم پر تال میل ملارہے تھے۔ مار دو تابش مجھے چود چود کے مار دو میں تمہاری بانہوں میں چرتے ہوئے مرنا چاہتی ہوں۔ شبانہ مجھے پاگل کر رہی کا ھے پاگل کر رہی تھی۔ میں بھی ایسے چدائی کر رہا تھا جیسے اپنے دھکوں سے اس انار کلی کلی کو دیوار میں گاڑ دوں گا۔ شبانہ شبانہ نے پانی چھوڑ دیا تھا تو بھی میرے دھکوں میں کمی نہ آئی۔ شبانہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ بیڈ پر لے چلو تابش مجھ سے اب کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ پانی نکلتے ہی وہی دھکے اب درد دینے لگے تھے۔ میں نے اسے اسی طرح اٹھایا اور بیڈ پر لانچا۔ شبانہ میری عادت سمجھتی تھی وہ کپڑے سے اپنی چوت صاف کرنے لگی۔ میں نے پھر اس کی چوت پر اپنے ہتھیار سے حملہ کر دیا۔ اس کی ٹانگیں کھول کے میں ٹھکا ٹھک کھدائی کرنے لگا پانی نکالنے کے لیے گہری کھدائی کرنی ہی پڑتی ہے میرا لن چوت کی گہرائیوں میں گھنے کے لیے بار بار حملے کرتا رہا
یشبانہ کی سسکاریاں پھر شروع ہو چکی تھیں شبانہ انگلش میں (فک می فک می) کی گردان کر رہی تھی۔ اس کا شعلیہ جسم بھڑک چکا تھا اور اس کی آگ میں ہم جھلس کے دیوانے ہو رہے تھے۔ شبانہ بڑی بے تاب تھی سو میں نیچے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا کر بے تابی نکالنے کا پورا موقع دیا۔ ایسے موقع پر آرام سے جوانی کی شدت کا مزہ لینا چاہیے۔ اب اس کے شعلہ جسم اپنی آگ کو بجھانے لگا۔ لیکن عجیب بات تھی جتنا بجھانے کی کوشش کر رہی تھی اتنی آگ اور بھڑک رہی تھی، ایسی شدت ہو تو فراغت کیسے دیر کے کیسے دیر کر سکتی تھی۔ وہ آگئی اور ہمیں ایسا لگا جیسے ٹانگوں سے جان نکل رہی ہو۔ کچھ دیر تو گہرے سانس لیتے رہے۔ پھر ایکدوسرے کی طرف دیکھا اور ہماری ہنسی نکل گئی۔ اچھا تو میری بانہوں میں چرتے ہوئے مرنا چاہتی ہو ، کاش تم میری یہ خواہش پوری کر دو ، شبانہ نے حسرت سے کہا تو مجھے اس کے لہجے کی سنجیدگی کی وجہ سے محتاط ہونا پڑا۔
چلو تمہیں آسمانوں کی سیر کراتی ہوں۔ شبانہ نے میرا لن پکڑ کے اپنا منہ اس کے پاس لے جاتے ہوئے کہا۔ جیسے ہی اس نے میرے لن کو چوما اور چوسنا شروع کیا میرے جسم میں کرنٹ سیا دوڑ نے لگ گیا۔ شبانہ مجھے دوسرے راونڈ کیلیے تیار کرنے لگی تھی۔ اسے چوسنے میں مہارت تھی۔ اور مجھے اس کا شوق تھا، شبانہ میری اس کمزوری سے واقف تھی اس نے مجھے اتنا کرنٹ لگایا کہ ٹرانسفر بنادیا تا کہ یہی کرنٹ میں اسے چودنے میں لگاؤں۔ لیکن میرے کچھ اور ہی ارادے تھے میں اس کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے لیٹ گیا اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا پہلے پہل تو وہ جوش سے لگی رہی اور خوب سواری کی پھر وہ آہستہ ہونے لگی لڑکیوں کے لیے یہ کوئی آسان کام نہیں ہے میں نے اسے آرام نہیں کرنے دیے اور اسے جوش دلاتا رہا اور شبانہ سواری کرتی رہی۔ شبانہ پھر مدہم پڑنے کھی اسکی بس ہو رہی تھی۔ اب میں اس کی کمر سے پکڑ کے اسے اوپر نیچے کروانے لگا۔
پہلے وہ تھکی تھی اب نڈھال ہونے لگی اور پھر میرے اوپر گر پڑی۔ اس کا سانس دھونکنی جیسا چل رہا تھا اسے کچھ مہلت دے کہ پھر میں شروع ہو گیا اور اب کی بار میں نے اس کی تسلی کروادی۔ آدھے گھنٹے بعد جسم نارمل ہو گیا تو میں نہانے چلا گیا۔ میں نہا کے نکلا تو شبانہ اٹھی وہ کچھ تھکی تھکی لگ رہی تھی۔ میں نے اسے ایک ٹھنڈی بیئر دی ایک خود پینے لگا۔ اس سے وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگی۔
اور کپڑے پہن کر چلی گئی۔
