Hello friends es post men ham apke Sath share karengy kuchh best Urdu sexy story Jo ke apko parh kar Maza aayega ye Sachi aur real Urdu hot stories Hain Jo logon NY share ki hain kuchh Meri personal Hain agr ap bhi apni sexy Kahani share Karna chahty hain to apko contact us page par apko email mil jayegi ap wahan apni Urdu hot stories share kar sakty Hain. To shuru karty hai pehli story se Jo neechy di jaa Rahi hai
Urdu sexy story NO.1 ( Hospital men Lady doctor ko ek month tak choda )
میرا نام فرید ہے میری عمر اٹھارہ سال ہے۔ کہانی کچھ لمبی نہیں ہے بس شارٹ سا واقعہ ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ میں بھی عام لڑکوں کی طرح اس عمر میں گرل فرینڈز کے مسائل سے آزاد تھا لیکن آزاد رہنے سے ایک مسئلہ امڈ آیا۔ ایک دو دن کے بعد مشت زنی کرنے کی مجھے عادت تھی اس لیے ایک دن میرادل مٹھ مارنے کا ہو رہا تھا تو باتھ روم میں بھس گیا اور کپڑے اتار کر لنڈ کو کھڑا کرنے لگا۔
جب میرا ہاتھ ٹوں کو ٹچ ہوا تو مجھے محسوس ہوا کہ ٹوں اور لنڈ کے در میانی جگہ پر پھوڑا نکلا ہوا ہے۔ جس کی جسامت اس وقت کچھ کم تھی۔ بار بار انگلیاں لگنے سے لنڈ ورد کرنے لگا تب مٹھ نہ مارنے کی سوچی اور نہا کر کپڑے پہن کر باہر نکل آیا۔ میرے گھر پر میرے علاوہ امی ہوتی ہیں میں نے ان سے مسئلہ بیان نہیں کیا اور خاموش ہی رہا اور میں دوستوں کے ساتھ کھیلنے میدان میں چلا گیا۔
جب میری بیٹنگ آئی تو پہلے کچھ اوور ز میں ، میں نے مخالف ٹیم کے چھکے چھڑوادیے۔ مخالف ٹیم کے کپتان نے دیکھا کہ فرید تو کافی تیزی سے میچ کو اپنی جانب موڑ رہا ہے تو اس نے اپنے تیز ترین باولر جس نے ابتدائی اوورز میں ہماری ٹیم کے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا تھا اس کو اوور دیا۔ قدرت نے جیسا لکھا تھا ویسا ہی ہوا میں اس اوور میں آخری گیند کھیلنے کے لیے اس کے سامنے آگیا۔
باولر نے سٹارٹ لیا اور گیند خطر ناک حدر فتار سے پھینکی۔ باولر نے ٹھیک میری ران کے درمیانی حصے کو نشانہ بنایا تھا جس میں وہ کامیاب ہو گیا۔ پہلے تو میری ٹیم کو کچھ سمجھ نہیں آئی پھر جب سمجھ آیا تو سب میری طرف دوڑے۔ میرے لنڈ پر پہلے پھوڑا نکلا تھا اور اوپر سے تیز گیند کے لگنے سے میرے حواس ہی ختم ہو چکے تھے۔ خیر خدا خدا کر کے میرے حواس دوبارہ بحال ہوئے۔
اور ہم اس میچ کو وہیں ختم کر کے گھر کی طرف چل دیے۔ ہماری ٹیم کا کپتان جاوید میرا دوست تھا اس نے راستے میں بات چھیڑ دی۔
جاوید: یار ایک بات پوچھوں؟ میں لنگڑاتے ہوئے): ہاں پوچھ جاوید : جب تمہیں گیند لگی تو مالش کرتے وقت کچھ محسوس ہوا تھا۔ میں شرمندہ ہوتے ہوئے): کیا؟
جاوید : تیرے ہتھیار پر پھوڑا ہے شاید اتنی زیادہ درد تمہیں اسی کی وجہ سے ہو رہی تھی۔
میں : شاید ایسا ہو۔
جاوید : یار۔ ایک اچھا دوست ہونے کے ناطے تجھے میں مشورہ دیتا ہوں کہ تم اپنی امی کو اس پھوڑے کے متعلق بتا دو۔ میں ہچکچاتے ہوئے : نہیں یار۔ میں امی کو کیسے بتا سکتا ہوں؟
جاوید : چل میں بتا دیتا ہوں۔
میرے انکار کے باوجود جاوید نے امی کو ساری بات بتادی امی جاوید کی بات سن کر بہت پریشان ہو گئی آپ سب کو معلوم ہو گا کہ جن کی والدہ محترمہ دیہاتی ہوتی ہیں ان کی اولاد کو کیا کچھ سننا پڑتا ہے۔ خیر امی نے اسی وقت گھر کو تالا لگایا اور مجھے لے کر قریبی کلینک پر چلی گئی جو تقریبا تین کلو میٹر دور تھا۔
کچھ دیر انتظار کے بعد ہمارا نمبر بھی آگیا اور ہم اندر پہنچ گئے۔ امی نے لیڈی ڈاکٹر سے مسئلہ شئیر کیا۔ لیڈی ڈاکٹر نے خاموشی سے ساری بات سنی پھر مجھے آفس کے ساتھ انچ ایک کمرے میں جا کر لیٹنے کا بولا۔ میں بادل ناخواستہ اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں لگے اسٹریچر پر جا لیٹا جہاں ایک نرس پہلے سے موجود تھی۔ اس نے مجھے دیکھا اور باہر نکل گئی۔ کچھ سیکنڈز کے بعد وہ دوبارہ اندر آئی اور مجھ سے بولی :
میڈیم نے بولا ہے کہ اپنی شلوار اتار دو اور پھوڑے والی جگہ پر یہ کریم لگا دو۔ میں نے خاموشی سے اس سے کریم لی اور اسے باہر جانے کی استدعا آنکھوں سے کرنے لگا لیکن وہ ایسے اپنے کاموں میں وہ مصروف ہو گئی جیسے اسے میرے ہونے یا نہ ہونے کی کوئی پر واہ نہ ہو۔ میں نے بادل نخواستہ اپنی شلوار آہستہ سے اتاری اور مطلوبہ جگہ کریم لگانے لگا۔
جب کریم لگا چکا تو میری نظر نرس کی طرف گئی۔ مجھے حیرت ہوئیکیونکہ وہ میری طرف بالکل بھی نہیں دیکھ رہی تھی۔ جیسے ہی میں
نے کریم کو بند کر کے سائڈ پر رکھا اسی وقت نرس نے میری طرف
توجہ دی اور کہا۔ ابھی شلوار مت پہن لینا۔ ابھی میڈیم نے چیک
بھی کرنا ہے۔ میں تو مختلف سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے ویسے
بھی نیٹ پر کافی سٹوریز پڑھ رکھی تھی کہ ایسا ہوتا ہے ویسا ہوتا ہے۔
خیر کچھ دیر بعد لیڈی ڈاکٹر اندر آئی اور اس نے عام سا چیک اپ کیا
اس دوران میرا لنڈ کھڑا رہا جو میری شرمندگی کا سبب بھی بنا۔ لیکن
لیڈی ڈاکٹر اور نرس کے چہرے پر کوئی بھی تاثر ایسا ویسا نہیں تھا جس
سے میں کوئی اندازہ لگاتا۔ لیڈی ڈاکٹر نے مجھے سیکس، مٹھ اور گندے
خیالات سے باز رہنے کی ہدایات دی اور مجھے ایک ہفتے بعد دوبارہ
چیک اپ کروانے کا بول کر کمرے سے باہر نکل آئی۔
نرس نے لیڈی ڈاکٹر کے جانے کے بعد مجھے پانچ منٹ کے بعد باہر
آنے کا بول کر اپنے کاموں میں مصروف ہو گئی۔ یہ تمام باتیں امی کی
غیر حاضری میں ہوئی اس لیے میں زیادہ نروس نہیں ہوا۔
خیر لیڈی ڈاکٹر کی دی ہوئی ٹیوب اور کیپسول کھانے سے میرا پھوڑا
آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ ایک ہفتے کے بعد امی نے خود ہی کہا کہ
ہمیں وہاں چلنا چاہیے۔ میں نے انکار کیا تب امی بولی۔
ڈاکٹر قلزم نے کہا تھا کہ اگر چیک اپ کروانے نہ آئے تو ہو سکتا کہ یہ
پھوڑا کسی اور جگہ نکل آئے اور اس کی جسامت زیادہ بڑھی بھی
ہو سکتی ہے۔ میں ڈاکٹر قلزم کی عقلمندی کی داد دیے بغیر نہ رہ سکا
کیونکہ اکثر ڈاکٹر ز حضرات پیسے وصولنے کے لیے ایسے حربے
استعمال کرتے ہیں۔ خیر مقررہ دن صبح صبح امی نے مجھے جگایا اور کہا:
تمہاری خالہ کی ساس فوت ہو گئی ہیں میں ان کی طرف جارہی ہوں
تم خود آج لیڈی ڈاکٹر کے پاس چلے جانا۔ میں ان کی بات مان کر ان
کے ساتھ ہی گھر سے نکل پڑا۔ جب مقررہ جگہ پہنچا تو مریضوں کی
تعداد میں خاصی کمی تھی۔ مجھے جلد ہی اندر بلا لیا گیا میں خاموشی سے
لیڈی ڈاکٹر کے پاس جا بیٹھا جہاں تمام مریض بیٹھ کر اپنا چیک اپ
کرواتے ہیں۔ خیر کچھ دیر رسمی گفتگو کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے مجھے
اندر چلنے اور شلوار اتار کر رکھنے کا کہا۔
میں پہلے کی طرح اندرونی کمرے میں گیا اور اپنی شلوار اتار کر سائڈ پر رکھ دی۔ آج نرس کمرے میں موجود نہیں تھی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر قلزم اندر داخل ہوئی اور بولی : آرام سے لیٹ جاؤ مجھے ایک مریض کو چیک کرنا ہے۔ رمشا آج نہیں آئی اس لیے مجھے سارے کام دیکھنا پڑ رہے ہیں۔ میں جی اچھا کہہ کر لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعد میڈم اندر داخل ہوئی۔
اور اپنے ہاتھوں پر دستانے معمول کے مطابق چڑھائے میرے-قریب آئی۔ نا جانے کیوں جب بھی میڈم قلزم میرے قریب آتی تھی تو میرا لنڈ کھڑا ہو جاتا تھا۔ خیر میڈم نے اپنا وہی کام شروع النڈ کر دیا۔ میرے لنڈ کو پکڑ کر بھی دائیں بھی بائیں جانب موڑ کر دیکھتی۔ اس دوران میرے لنڈ میں بچی نرمی سختی میں تبدیل ہو چکی تھی۔ میڈم اپنے چہرے پر کوئی بھی تاثرات لائے بغیر بولی :
آج خالہ (امی) کو ساتھ نہیں لائے؟ میں : نہیں۔ وہ امی کو کسی کام سے رکنا پڑا۔ کو سے میڈیم : یہ اچھا کیا۔ ویسے بھی ان کی عمر ہو ہوتی گئی ہے۔ میں بس جی کہہ سکا۔ کچھ دیر تک میڈم چیک اپ کرتی رہی اور ساتھ ساتھ باتیں بھی، پھر میڈیم نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا: اس ہفتے احتیاط کی ؟
میں اچانک سوال کو سمجھ نہ سکا اور بولا : کیا مطلب؟ میڈم مسکراتے ہوئے : مطلب۔ سیکس، مشت زنی یا کوئی اور کام تو نہیں کیا ؟ میں نے جواب دیا: نہیں۔
میڈم : مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تم نے ایسا کوئی کام اس ہفتے لازمی کیا ہے اس لیے پھوڑے والی جگہ پر نشان باقی ہے۔ (فرینڈز جس جگہ پھوڑا نکلتا ہے اس جگہ اس کا نشان وقتی رہتا ہے )
میں میڈم کی بات سن کر تھوڑا سا پریشان ہو گیا۔ میں بولا : پھر کیا
ہو گا جبکہ میری تو کوئی گرل فرینڈ بھی نہیں۔ میڈم نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے : میں نہیں مانتی کہ تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں ہے۔ میں پریشانی میں : یہ سچ ہے میری کوئی گرل فرینڈ نہیں۔ میڈم : ابھی معلوم ہو جائے گا۔
اتنا کہہ کر لیڈی ڈاکٹر میرے ہتھیار کو اسی طرح پکڑے پکڑے بلکا اسی بلکا ہلانے لگی۔ مجھے زیادہ تو نہیں لیکن تھوڑا تھوڑا مزہ آنے لگا کچھ نڈز کے بعد ڈاکٹر قلزم نے اپنے ہاتھوں سے دستانے اتار کر سائڈ پر رکھے اپنے نگے ہاتھوں سے میرے لنڈ کی مٹھ مارنے لگی۔ جو شکر می نگے ہاتھ کی ہوتی ہے وہ دستانے میں نہیں، اسی وجہ سے میرے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگی۔
چند لمحوں کے بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ میرے جسم میں خون کی گردش بڑھنے لگی ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب میرے لنڈ سے منی نکلنے والی ہوتی ہے۔ میرے منہ سے سسکاریوں کی آواز بلند ہوتا
دیکھ میڈم قلزم بھی اپنے کام کو مزید تیز کر دیا۔ میری کمر اسٹریچر سے اوپر اٹھنے لگی تب ڈاکٹر قلزم نے اپنے منہ کو میرے لنڈ پر جھکا لیا میں اس منظر کو مزید دیکھ نہ سکا۔
کیونکہ میر اہتھیار ڈاکٹر قلزم کے ہاتھوں کی گرمی کو پہلے برداشت نہیں کر سکا تھا اور اب تو ڈاکٹر قلزم نے حد ہی کر دی تھی۔ ایک کے بعد ایک منی کے قطرے میرے لنڈ سے نکل رہے تھے۔ جب میں مکمل خالی ہو چکا تب ڈاکٹر قلزم نے مجھ سے کہا: ابھی منٹ کے بعد یہاں سے نکل کر سامنے والی سٹور پر جاو اور ان سے یہ میڈیسن لے لو۔
میں سٹریچر سے اترا تو میری نظر سٹریچر پر گئی جہاں ایک بھی منی کا قطرہ موجود نہیں تھا جس کا ایک ہی مطلب تھا۔ خیر میں نے میڈیسن لی اور واپس آکر ڈاکٹر قلزم ر قلزم کو دیکھائی۔ ڈاکٹر قلزم نے اپنے چہرے پر کوئی بھی تاثر دیئے بغیر دراز سے ایک چابی نکالی اور اوپر بنے ایک کمرے میں جانے کا کہا۔
قریب ہیں منٹ کے بعد ڈاکٹر قلزم اس کمرے میں آگئی۔
میرے لن کی ایک ٹیسٹ ڈرائیو وہ پہلے ہی لے چکی تھی۔ جس سے شاید اُسے میرے کنوارے پن کا اندازہ ہو گیا تھا۔ نا جانے اب وہ کیا کرنے والی تھی۔
کمرے میں آتے ساتھ وہ میرے چہرے کو چومنے چاٹنے لگی۔ میں نے پہلے کبھی کسی لڑکی کو چودا نہیں تھا اس لیے ڈاکٹر قلزم کا ساتھ دینے میں ناکام رہا۔ ڈاکٹر قلزم کو اناڑی پن محسوس ہو چکا تھا۔
ڈاکٹر قلزم نے مجھے سنگل بیڈ پر کپڑے اتار کر لیٹنے کا کہا۔ میں بھی سیکس میں چور اس کی بات مانتے ہوئے اپنے کپڑے اتار نے لگا۔ جب میں کپڑے اتار چکا تو
ڈاکٹر قلزم نے مجھے بیڈ پر آنے کا اشارہ کیا۔ میں تین سالہ سیکس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر قلزم کی طرف بڑھنے لگا۔ بیڈ پر پہنچ کر ہم ایک بار پھر بوس و کنار ہوئے۔
اس دوران میں آپ کو ڈاکٹر قلزم کے جسم کے متعلق بتادوں ۔ قلزم کے بوبز ۳۶ سائز کے ، کمر ۲۸ ، اور گانڈ کافی باہر کو آئی ہوئی تھی شاید ۳۲ سائز تھا یا اس سے زیادہ، قلزم کا جسم گورا تھا۔
پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اولاد نہیں ہے کیونکہ وہ دونوں (میاں بیوی) ابھی بچوں کے جھنجھٹ کو افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔
بوس و کنار کے بعد ڈاکٹر قلزم نے مجھے بیڈ پر دھکیل دیا میں خاموشی سے بیڈ پر ٹانگیں نیچے لٹکائے لیٹ چکا تھا۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنی ٹانگوں کو بھی اوپر کر لیا۔ ڈاکٹر قلزم میرے ہونٹوں سے ہوتے ہوئے میری گردن پر آئی پھر آہستہ آہستہ میری گردن سے نیچے میری چھاتی سے ہوتے ہوئے میرے لنڈ پر پہنچ گئی۔ میرے لنڈ کو چوستے ہوئے کچھ لمحوں کے لیے رکی اور بولی۔
ڈاکٹر قلزم : مجھے اسی وقت شک پڑ چکا تھا جب تم اپنی والدہ کے : ساتھ میرے کلینک پر پہلی مرتبہ آئے کہ تمہاری کوئی گرل فرینڈ نہیں، یہ پھوڑے زیادہ تر اسی وقت نکلتے ہیں جب لڑکے مشت زنی کرتے ہیں۔ آج میں تمہیں وہ مزہ دوں گی جس کا تصور تم نے کبھی بھی نہیں کیا ہو گا۔
میں ڈاکٹر قلزم کی باتیں توجہ سے لیکن اناڑی پن سن رہا تھا۔
ڈاکٹر قلزم پھر بولی: اگر آج تم مجھے خوش کر دو تو میں ہر خوشی تمہیں لا کر دے سکتی ہوں لیکن تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کہ یہ راز صرف ہمارے درمیان رہے گا۔
میں سیکس کے نشے میں ڈوبا ہوا بول پڑا: جو کام ہم نے شروع کیسے ہیں اس کو پہلے مکمل کر لو پھر کسی دوسرے کی طرف توجہ دیں گے۔ ڈاکٹر قلزم مسکراتے ہوئے میرے لنڈ پر پھر سے جھک گئی۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر قلزم میرے لنڈ کو اپنے منہ سے نکال کر میرے لنڈ پر بیٹھنے لگی۔ میر النڈ بڑی آسانی سے ڈاکٹر قلزم کی پھدی کے اندر داخل ہو چکا تھا۔ ڈاکٹر قلزم نے آہستہ آہستہ اوپر نیچے ہوتے ہوئے خود کو سیٹ کیا اور مجھ پر جھک گئی۔ ہم ایک بار پھر بوس و کنار میں مصروف ہو چکے تھے قلزم نے اپنے ایک ہاتھ کو آگے بڑھا کر میرے ہاتھ کو اپنے قبضے میں لے کر اپنے پستان پر جمادیا۔
میرے ہاتھ کے اوپر سے ہی اپنے ایک پستان کو دبوانے لگی۔ میں اس کا اشارہ سمجھ کر اپنے دونوں ہاتھوں سے قلزم کے پستانوں کو دبانے میں مصروف ہو گیا۔ قلزم اس سارے عمل کے دوران خود کو اوپر نیچے ہونے سے بالکل بھی نہیں روکا۔ کچھ لمحوں کے بعد ڈاکٹر قلزم ڈسچارج ہو چکی تھی۔ میں قلزم کے بدن کے وزن کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا اس بات کا احساس ڈاکٹر قلزم کو ہو چکا تھا۔
ڈسچارج ہونے کے بعد قلزم میرے جسم سے الگ ہو کر بیڈ پر کمر کے بل لیٹ چکی تھی۔ قلزم لمبے لمبے سانس لینے کے بعد : میرے اوپر آؤ۔ میں قلزم کی بات مان کر اس کے جسم کے اوپر آگیا۔ قلزم نے ہاتھ بڑھا کر میرے لنڈ کو پکڑ لیا جو ایک ٹیسٹ ڈرائیو کے بعد ابھی تک کھڑا تھا۔ قلزم نے دو سے تین مرتبہ میرے لنڈ کو ہلایا اور پھر اپنے پھدی کے سوراخ پر رکھ کر مجھے جھٹکا دینے کا کہا۔
میں نے دو جاندار جھٹکوں کی مدد سے اپنا لنڈ ڈاکٹر قلزم کی پھدی میں مکمل ڈال دیا۔ قلزم میرے ہر جھٹکے پر سسکتی اور مجھے مزید تیز جھٹکے لگانے کا بولتی۔ قلزم اپنی جنگی ٹانگوں کی مدد سے میری کمر کو جھکڑ کر اپنے قریب لانے کی کوشش کرنے لگی۔ اس انداز میں میرے لنڈ کی ٹوپی قلزم کی بچہ دانی سے بار بار ٹکرانے لگی۔ میں قلزم کی پھدی کی گرمی کو محسوس کر کے مزید گرم ہونے لگا تھا۔
تیز تیز جھٹکوں کے بعد جب قلزم کی آہیں زبان دانتوں تلے دینے سے بھی نہ رک رہی تھی تب مجھے لگا میرے لن کو قلزم کی پھدی نے کس کر پکڑ لیا ہے۔ اسی دوران اُس نے مجھے کھینچ کر اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا گو یا وہ ایک بار پھر جھڑ گئی تھی۔ جب اسکی سانس بحال ہوئی توہ گھوڑی بن گئی اور مجھے پیچھے سے چودنے کا کہا۔ میں کسی ربوٹ کی طرح پیچھے اسکی موٹی گانڈ میں پھدی کا سوراخ
تلاش کرنے لگا۔ ابھری ہوئی گانڈ کی وجہ سے سوراخ کافی نیچے چلا گیا تھا۔ بمشکل لن کو پکڑ کر میں نے اسکی پھدی کے سوراخ تک پہنچایا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر ڈال دیا۔ لن جڑ تک اسکی پھدی میں اتر گیا۔ نارمل حالت میں شاید میں اتنی دیر لن کی منی نکلنے سے نہ روک سکتا۔ ایک تو قلزم کی منگوائی دوا کا اثر تھا دور سرا کچھ دیر پہلے ہی میں ایک بار فارغ ہو چکا تھا۔
میری رفتار تیز سے تیز تر ہوتی گئی اور قلزم کا جسم لذت کی شدت سے کانپنے لگا تھا۔ میری آنکھوں کے سامنے قلزم کی خوبصورت گانڈ کا گول گلابی سوراخ تھا جو ہر جھٹکے پر اپنی شکل تبدیل کر رہا تھا۔ دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ گانڈ کا مزہ بھی آج ہی چکھ لیا جائے۔ یہی سوچ کر میں نے لن باہر نکال دیا۔ اور قلزم سے درخواست کی کہ میں اسکی گانڈ میں لن داخل کرنا چاہتا ہوں۔
میری بات سن کر اس نے خفگی بھری آواز میں لمبا سا۔ نو و و و کہا۔ میں سہم گیا۔ وہ بولی۔ میں گانڈو نہیں ہوں دوست۔ میری گانڈ کنواری ہے ابھی تک۔ لیکن مجھے یہ پسند بھی نہیں کہ گانڈ میں لن لوں۔ جب اتنی چکنی پھدی ہے تو گانڈ میں ڈلوانے کا کیا مطلب۔ اسکی بات میں لاجک تھا۔ میں نے بھی مزید اصرار نہیں کیا اور ایک بار پھر اسکی ہدایت کے مطابق اسکی پھدی پیچھے سے مارنے لگا۔
اندھا دھند پھدی کو کھلا کرنے کے بعد میں تھک سا گیا۔ اور قلزم کو سیدھا لیٹنے کو کہا۔ اسکی ٹانگوں میں بیٹھ کر میں نے لن کا ٹوپا اسکی پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک زبردست جھٹکے سے اندر کر دیا لیکن اس بار اسکی پھدی قدرے خشک تھی لن راستے میں ہی ریک گیا اور اسکی آہ بھی نکل گئی۔ شاید وہ فارغ ہو ہو کر ٹھنڈی ہو چکی تھی تبھی میں نے ہولے ہولے اندر باہر کرنا شروع کیا اور ۔
آہستہ آہستہ قلزم کی پھدی پھر گیلی ہونے لگی۔ اب میں فارغ ہونا چاہتا تھا یہی سوچ کر میں نے لن کی حساس جگہ پر پھدی کی رگڑ محسوس کر نا شروع کر دی۔ جلد ہی مجھے محسوس ہونے لگا تھا کہ میری منی میرے لنڈ کی ٹوپی کی طرف جانے والی ہے۔ میں نے اپنا چہرہ قلزم کے بڑے بڑے مموں کے درمیان چھپا کر جھٹکوں کی رفتار تیز کر دی۔ تیز اور تیز۔
قلزم جب تک میری حالت کو سمجھتی میں اس کی پھدی کے اندر تیزی سے فارغ ہونے لگا قلزم اپنے اندر گرم منی کو محسوس کرتے ہی فارغ ہونے لگی۔ ہم دونوں دو جسم ایک جان بنے ہوئے تھے۔ کچھ دیر بعد ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے میں قلزم کے ساتھ لیٹ کر ریلیکس ہونے لگا۔ یہ میری زندگی کا پہلا سیکس تھا۔ تلزم آنکھیں بند کیے لیٹی شاید اس مزے کو محسوس کر رہی تھی۔
میں وہاں سے اٹھا اور واش روم میں گھس گیا۔ اچھے سے فارغ ہو کر کمرے میں آیا تو قلزم برا اور قمیض پہن چکی تھی۔ مجھے واش روم سے باہر آتا دیکھ ، سمائل کرتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔ کچھ دیر بعد قلزم پینٹی اور شلوار پہن کر میرے پاس آگئی۔ ہم ایک دوسرے سے لیٹے ہوئے بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے۔ قلزم بولی : کیسا لگا تمہارا پہلا سیکس؟
میں ( قلزم کے بوبز کو دباتے ) : میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ قلزم مسکراتے ہوئے : تم نے خود کو روکا کیوں نہیں ڈسچارج ہونے سے پہلے ؟ میں بولا : بس۔ کچھ سمجھ نہیں آئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ تم مجھے اپنے اندر ڈسچارج کروانا چاہتی ہو۔ قلزم : اوہ۔ ایسا ہر کسی سے نہیں کرتے۔ اگر میری جگہ کوئی اور ہوتی تو وہ ٹھیک نو ماہ بعد تمہارے بچے کی ماں بن جاتی۔
میں پریشان ہوتے ہوئے): کیا تم ہو کیا تم بھی ماں بن جاو گی ؟ قلزم مسکراتے ہوئے: تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ میں تمہارے بچے کی ماں بن جاؤں یا نہیں؟ میں نے کہا: جیسے تمہیں صحیح لگے ۔ قلزم : اس متعلق پھر بات کریں گے پہلے کچھ کام کی باتیں ہو جائیں میں نے ہاں میں سر ہلایا۔ قلزم نے ان شارٹ مجھے سمجھایا۔ اگر ایک ماہ اس سے چودائی کرتار ہوں
اورا گروہ ( قلزم ) پریگنٹ ہو جاتی ہے تو پھر وہ مجھے ایک کام کرنے کے لیے دیا کرے گی۔ جس سے ہمارے گھر کے مالی حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ میں نے یہ بات سوچ کر ہامی بھر لی کہ ایک تو چودائی بھی ہوتی رہے گی اور اوپر سے پیسے بھی ملا کریں گے پھر ہم اپنے اپنے راستے چل دیے۔ ہم دونوں ایک ماہ تک مسلسل جب بھی موقع ملتا سیکس کی دنیا میں کھوئے رہے پھر اسی نے بتایا کہ وہ پریگننٹ ہے۔
کے جسم۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جو مزہ مجھے ٹیسٹ ڈرائیو میں ملا تھا وہ قلزم جسم سے دوبارہ حاصل نہ ہو سکا۔ مزہ آتا ضرور تھا لیکن صرف فارغ ہوتے وقت۔ شاید اب میں سیکس سے آشنا ہو چکا تھا اس لیے لیکن جو بھی تھا۔ قلزم نے پیار کی حد کر دی اور میرے بچے کو اپنے پیٹ میں پال لیا۔ یہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اُس کا شوہر نامیر رہے اور بچہ پیدا نہیں کر سکتا اور یہ بار صرف قلزم جانتی تھی۔
پھر اس نے مجھے اپنے علاقے کے لیے ایک کام کرنے کے لیے دیا جسے میں نے پہلے پہل انکار کیا پھر مالی فائدہ ہونے کی وجہ سے انکار نہ کر سکا۔ کام یہ تھا کہ قلزم کے پاس ایسی بہت سی خواتین اور لڑکیاں آتی تھیں جن کی اولاد ان کے مردوں کے پانچھ پن کی وجہ سے نہیں تھی۔ ایسی عورتیں طلاق سے بچنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھیں۔ میرا کام ان عورتوں کی گود ہری کرنا تھا۔
میری وجہ سے ڈاکٹر قلزم اپنے کلینک کو مشہور سے مشہور ترین بناتی چلی گئی اور میں امیر سے امیر ترین۔ آج ڈاکٹر قلزم کا اپنا ہسپتال ہے جس میں کافی مہنگا علاج ہوتا ہے۔ اور میرے پاس گاؤں میں ایک پکا مکان جو ڈبل سٹوری اور ایک شہر میں مکان ہے جہاں ہم ( قلزم اور میں سیکس کرتے ہیں۔